تہران،12مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایران میں 19 مئی 2017ء کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں جن چھ امیدواروں کو حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے ان میں ایک نام باقر قالیباف ہے۔ 55 سالہ باقر قالیباف تہران کے سابق میئر ہیں مگر وہ اصلاح پسند صدر حسن روحانی کے لیے بھی سیاسی طور پرخطرہ بن سکتے ہیں۔اگر ایرانی صدارتی الیکشن بنیاد پرستوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہوجاتا تو باقر قالیباف حسن روحانی کے لیے انتخابات کے دوسرے مرحلے پرخطرہ بن سکتے ہیں۔باقر قالیباف تہران کے سابق میئر ہونے کے ساتھ ساتھ پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے بھی سابق افسر رہ چکے ہیں۔ موجودہ ایرانی صدارتی امیدواروں میں قالیباف ہی ایسی کرشماتی شخصیت ہیں جو ایران کی مذہبی پاپائیت کے لیے حقیقی خطرہ بن سکتے ہیں۔
ایرانی رجیم ک بعض حلقے 19 مئی کے انتخابات سے قبل قالیباف کو دست بردار کرانے کی کوشش بھی کررہے ہیں مگر انہوں نے دستبرداری کی تمام تجاویز اور پیشکشیں ٹھکرا دی ہیں۔ قالیباف نے عوام کے سامنا اپنا ایک مخصوص اقتصادی ویڑن پیش کیا ہے۔چار سال قبل ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھی قالیباف نے حصہ لیا۔ وہ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے مگر حسن روحانی اور قالیباف کے درمیان بہت بڑا خلا تھا۔ قالیباف کو 16.5 فی صد اور حسن روحانی کو 50 فی صد ووٹ ملے تھے۔اس بار ایران کی مذہبی اشرافیہ حسن روحانی کی جگہ ابراہیم رئیسی کو لانے کے لیے کوشاں ہے۔ رئیسی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کا دست راست قرار دیا جاتا ہے۔تہران بلدیہ کے سابق میئر کے انتخابی عمل میں شمولیت سے دارالحکومت [تہران] میں حسن روحانی کا ووٹ غیرمعمولی حد تک متاثر ہوگا۔تہران حکومت کیایک عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قالیباف کا صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر اصرار ریاستی اداروں کے لیے خطرہ ہے۔ ان کی وجہ سے ایران میں بنیاد پرست اور مذہبی حلقوں کے ووٹ تقسیم ہوجائیں گے۔ قالیباف نے ایران کی تمام سرکردہ شخصیات کی طرف سے انتخابات سے دست برداری کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔
ماضی کے برعکس اس بار قالیباف زیادہ ووٹ حاصل کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ اسی توقع کے پیش نظرانہوں نے صدارتی انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لینے کی مہم برپا کررکھی ہے۔سابق صدر محمود احمدی نڑاد بھی تہران کے سابق میئررہ چکے ہیں۔ مگر ان سے ایرانی مذہبی پاپائیت کو خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ وہ 2005ء میں ایران کے صدر منتخب ہوگئے۔ وہ سنہ 2005ء سے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل ہیں مگر دوسرے مرحلے کے انتخابات سے آگے نہیں بڑھ سکے۔احمدی نڑاد نے2005ء کے انتخابات میں پہلے مرحلے پر 19.5 فی صد ووٹ لیے مگر یہ امر باعث حیرت ہے کہ انہوں نے دوسرے مرحلے میں علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کو شکست دے دی تھی۔